Sunan Abi Dawood Hadith 3044 (سنن أبي داود)

[3044] إسنادہ ضعیف

قشیر مستور (تقریب: 5550) یعني مجہول الحال وثقہ ابن حبان وجھلہ أبو الحسن ابن القطان

انوار الصحیفہ ص 111

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي ہِنْدٍ عَنْ قُشَيْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَسْبَذِيِّينَ مِنْ أَہْلِ الْبَحْرَيْنِ وَہُمْ مَجُوسُ أَہْلِ ہَجَرَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَمَكَثَ عِنْدَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَسَأَلْتُہُ مَا قَضَی اللہُ وَرَسُولُہُ فِيكُمْ قَالَ شَرٌّ قُلْتُ مَہْ قَالَ الْإِسْلَامُ أَوْ الْقَتْلُ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَبِلَ مِنْہُمْ الْجِزْيَةَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَتَرَكُوا مَا سَمِعْتُ أَنَا مِنْ الْأَسْبَذِيِّ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہل بحرین کے اسبذی لوگوں کا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا،یہ لوگ اہل ہجر کے مجوسی تھے،یہ آدمی کئی دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ٹھہرا رہا۔پھر جب واپس ہونے لگا تو میں نے اس سے پوچھا: تمہارے بارے میں اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ اس نے کہا: بہت برا فیصلہ۔میں نے کہا: خاموش (یعنی اللہ و رسول کا فیصلہ برا نہیں ہو سکتا) کہنے لگا: (فیصلہ یہ ہے کہ) یا تو اسلام قبول کر لوں یا قتل ہو جاؤں۔راوی نے کہا: سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے جزیہ لینا قبول کیا تھا۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بات لے لی ہے اور میری بات چھوڑ دی ہے جو میں نے اس اسبذی سے سنی تھی۔