Sunan Abi Dawood Hadith 3062 (سنن أبي داود)

[3062]حسن

طریق ثور بن زید: سندہ حسن، وأخرجہ البیھقي (6/151 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَيْرُہُ قَالَ الْعَبَّاسُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّہَا وَغَوْرِيَّہَا وَقَالَ غَيْرُہُ جَلْسَہَا وَغَوْرَہَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِہِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ہَذَا مَا أَعْطَی مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاہُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّہَا وَغَوْرِيَّہَا وَقَالَ غَيْرُہُ جَلْسَہَا وَغَوْرَہَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِہِ حَقَّ مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ وَحَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَی بَنِي الدِّيْلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَہُ

کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی اپنے والد (عبداللہ) وہ اس کے دادا (عمرو بن عوف) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو مقام قبل کی کانیں عنایت فرمائی تھیں ‘ ان کی بالائی جانب ‘ نیچے کی جانب اور قدس پہاڑ کے اطراف جہاں کاشت ہو سکتی ہے۔(عباس کے علاوہ باقی راویوں نے ((جلسیہا وغوریہا)) کی جنائے ((جلسہا وغورہا)) کے الفاظ استعمال کیے ہیں ان کے معنی بھی وہی ہیں۔) کسی دوسرے مسلمان کا حق انہیں نہیں دیا تھا۔نبی کریم ﷺ نے انہیں یہ تحریر دی تھی ((بسم اللہ الرحمن الرحیم)) یہ وہ عطیہ ہے جو اللہ کے رسول محمد (ﷺ) نے بلال بن حارث بن مزنی رضی اللہ عنہ کو دیا ہے۔اسے مقام قبل کی کانیں ‘ ان کے بالائی اور زیریں حصے اور قدس پہاڑ کے اطراف جہاں کاشت ہو سکتی ہے ‘ اسے عطا کی ہیں اور کسی دوسرے مسلمان کا حق نہیں دیا ہے۔‘‘ ابواویس نے کہا: مجھے ثور بن زید نے بواسطہ عکرمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل روایت کیا۔