Sunan Abi Dawood Hadith 3063 (سنن أبي داود)

[3063]حسن

وأخرجہ البیھقي (6/151 وسندہ حسن) وانظر الحدیث السابق (3062 من طریق ثور بن زید وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ قَالَ سَمِعْتُ الْحُنَيْنِيَّ قَالَ قَرَأْتُہُ غَيْرَ مَرَّةٍ يَعْنِي كِتَابَ قَطِيعَةِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ أَبُو دَاوُد و حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّہَا وَغَوْرِيَّہَا قَالَ ابْنُ النَّضْرِ وَجَرْسَہَا وَذَاتَ النُّصُبِ ثُمَّ اتَّفَقَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ ہَذَا مَا أَعْطَی رَسُولُ اللہِ ﷺ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاہُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسَہَا وَغَوْرَہَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِہِ حَقَّ مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ وَحَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَہُ زَادَ ابْنُ النَّضْرِ وَكَتَبَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ

(اسحاق بن ابراہیم الحنینی) الحنینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کا خط (بلال بن حارث کی) جاگیر کے متعلق کئی بار پڑھا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں کئی ایک نے حسین بن محمد سے حدیث سنائی ‘ انہوں نے کہا: ہمیں ابواویس نے خبر دی اس نے کہا: مجھے کثیر بن عبداللہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے اس کے دادا سے ‘ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو مقام قبل کی کانیں ان کی بالائی اور زیریں جانب،راوی حدیث ابن نضر نے مقام جرس اور ذات النصب کا بھی ذکر کیا ..... اور قدس پہاڑ کی وہ زمین جو کاشت کے قابل ہے ‘ وہ سب انہیں دیں اور انہیں کسی دوسرے مسلمان کا حق نہیں دیا۔رسول اللہ ﷺ نے اسے یہ تحریر عنایت فرمائی ’’یہ وہ عطیہ ہے جو اللہ کے رسول (ﷺ) نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا ہے۔اسے مقام قبل کی کانیں ان کی بالائی جانب ‘ زیریں جانب اور قدس پہاڑ کی زمین جو قابل کاشت ہے عطا کی ہیں ‘ کسی دوسرے مسلمان کا حق نہیں دیا ہے۔‘‘ ابواویس نے کہا: مجھے ثور بن زید نے بواسطہ عکرمہ ‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ بالا حدیث کی مثل روایت کیا۔ابن نضر نے یہ اضافہ کیا ہے کہ یہ تحریر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے قلم بند کی۔