Sunan Abi Dawood Hadith 3070 (سنن أبي داود)

[3070] إسنادہ ضعیف

ترمذی (2814) والحدیث الآتي (4847)

صفیۃ بنت علیبۃ: مجہولۃ کما فی التحریر (8626) وأختھا دحیبۃ: مثلھا (التحریر: 8579)

انوار الصحیفہ ص 113

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَمُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ الْمَعْنَی وَاحِدٌ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيہِمَا أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُمَا قَالَتْ قَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَتْ تَقَدَّمَ صَاحِبِي تَعْنِي حُرَيْثَ بْنَ حَسَّانَ وَافِدَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فَبَايَعَہُ عَلَی الْإِسْلَامِ عَلَيْہِ وَعَلَی قَوْمِہِ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ بِالدَّہْنَاءِ أَنْ لَا يُجَاوِزَہَا إِلَيْنَا مِنْہُمْ أَحَدٌ إِلَّا مُسَافِرٌ أَوْ مُجَاوِرٌ فَقَالَ اكْتُبْ لَہُ يَا غُلَامُ بِالدَّہْنَاءِ فَلَمَّا رَأَيْتُہُ قَدْ أَمَرَ لَہُ بِہَا شُخِصَ بِي وَہِيَ وَطَنِي وَدَارِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّہُ لَمْ يَسْأَلْكَ السَّوِيَّةَ مِنْ الْأَرْضِ إِذْ سَأَلَكَ إِنَّمَا ہِيَ ہَذِہِ الدَّہْنَاءُ عِنْدَكَ مُقَيَّدُ الْجَمَلِ وَمَرْعَی الْغَنَمِ وَنِسَاءُ بَنِي تَمِيمٍ وَأَبْنَاؤُہَا وَرَاءَ ذَلِكَ فَقَالَ أَمْسِكْ يَا غُلَامُ صَدَقَتْ الْمِسْكِينَةُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ يَسَعُہُمَا الْمَاءُ وَالشَّجَرُ وَيَتَعَاوَنَانِ عَلَی الْفَتَّانِ

جناب عبداللہ بن حسان عنبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بےحد پریشانی ہوئی (کیونکہ) وہ میرا وطن ہے اور میرا گھر بھی وہیں ہے۔میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے آپ سے متوسط قسم کی زمین کا سوال نہیں کیا ہے (بلکہ عمدہ اور نفیس زمین طلب کی ہے) یہ دھناء اونٹ باندھنے کی جگہ ہے (کہ اونٹ وہاں سے نکلتے ہی نہیں یا نکالے نہیں جاتے۔کیونکہ یہ بہت سرسبز ہے) اور بکریوں کی چراگاہ ہے۔اور بنو تمیم کی عورتیں اور ان کے بچے ان کے پیچھے (مقیم ہیں) تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے لڑکے! رک جاؤ ‘ اس مسکین عورت نے سچ کہا ہے ‘ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ‘ پانی اور درخت سب کے فائدے کے لیے ہیں ‘ فتنہ پرور لوگوں کے مقابلے میں انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیئے۔‘‘