Sunan Abi Dawood Hadith 3095 (سنن أبي داود)
[3095]صحیح
صحیح بخاری (5657)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ الْيَہُودِ كَانَ مَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُہُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَقَالَ لَہُ أَسْلِمْ فَنَظَرَ إِلَی أَبِيہِ وَہُوَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَقَالَ لَہُ أَبُوہُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ وَہُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي أَنْقَذَہُ بِي مِنْ النَّارِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کا ایک لڑکا بیمار ہو گیا تو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔آپ ﷺ اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے ‘ اور اس سے فرمایا ’’اسلام قبول کر لو۔‘‘ تو اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جب کہ وہ بھی اس کے سر کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔تو اس کے باپ نے اس سے کہا: ابوالقاسم کی بات مان لو۔چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔پھر نبی کریم ﷺ وہاں سے اٹھے تو فرما رہے تھے ’’حمد اس اﷲ کی جس نے اس کو میرے ذریعے سے آگ سے نجات دی۔‘‘