Sunan Abi Dawood Hadith 3112 (سنن أبي داود)

[3112]صحیح

صحیح بخاری (3989، 3045)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُہْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ ابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا وَكَانَ خُبَيْبٌ ہُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَہُمْ أَسِيرًا حَتَّی أَجْمَعُوا لِقَتْلِہِ فَاسْتَعَارَ مِنْ ابْنَةِ الْحَارِثِ مُوسًی يَسْتَحِدُّ بِہَا فَأَعَارَتْہُ فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَہَا وَہِيَ غَافِلَةٌ حَتَّی أَتَتْہُ فَوَجَدَتْہُ مُخْلِيًا وَہُوَ عَلَی فَخْذِہِ وَالْمُوسَی بِيَدِہِ فَفَزِعَتْ فَزْعَةً عَرَفَہَا فِيہَا فَقَالَ أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَہُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَی ہَذِہِ الْقِصَّةَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّہْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا يَعْنِي لِقَتْلِہِ اسْتَعَارَ مِنْہَا مُوسًی يَسْتَحِدُّ بِہَا فَأَعَارَتْہُ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ بنو حارث بن عامر بن نوفل نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو خرید لیا ‘ اور خبیب رضی اللہ عنہ وہ شخص تھے جنہوں نے معرکہ بدر میں حارث بن عامر کا کام تمام کیا تھا۔چنانچہ خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاں قیدی رہے حتیٰ کہ ان لوگوں نے ان کو شہید کرنے کا فیصلہ کر لیا ‘ چنانچہ (قتل کیے جانے سے کچھ دن پہلے) انہوں نے حارث کی بیٹی سے استرا طلب کیا تاکہ زیر ناف کی صفائی کر لیں ‘ تو وہ اس نے ان کو دے دیا۔پھر اس کا ایک چھوٹا بچہ گھسٹتے گھسٹتے ان کے پاس آ گیا جبکہ وہ اس سے غافل تھی ‘ تو جب اس نے اچانک دیکھا کہ بچہ اکیلا ہی خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس ‘ اس کی ران پر بیٹھا ہے اور استرا بھی ان کے ہاتھ میں ہے تو وہ یہ منظر دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئی جسے خبیب رضی اللہ عنہ نے بھانپ لیا ‘ تو وہ بولے: کیا تم ڈرتی ہو کہ میں اسے قتل کر ڈالوں گا ‘ نہیں،نہیں میں یہ کام نہیں کروں گا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعیب بن ابی حمزہ نے یہ قصہ بواسطہ زہری روایت کیا ‘ تو کہا: مجھے عبیداللہ بن عیاض نے بیان کیا کہ حارث کی بیٹی نے اسے بتایا کہ ان لوگوں نے جب یہ فیصلہ کیا کہ وہ خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کر ڈالیں گے تو انہوں نے اس لڑکی سے استرا طلب کیا تاکہ زیر ناف کی صفائی کر لیں تو وہ اس نے انہیں دے دیا۔