Sunan Abi Dawood Hadith 3111 (سنن أبي داود)

[3111]إسنادہ حسن

أخرجہ النسائي (1847 وسندہ صحیح) وابن ماجہ (2803 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (1561)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَہُوَ جَدُّ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ أَبُو أُمِّہِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَمَّہُ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللہِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَہُ قَدْ غُلِبَ فَصَاحَ بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَلَمْ يُجِبْہُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَقَالَ غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُہُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ دَعْہُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ قَالُوا وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ الْمَوْتُ قَالَتْ ابْنَتُہُ وَاللہِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَہِيدًا فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِہَازَكَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَہُ عَلَی قَدْرِ نِيَّتِہِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّہَادَةَ قَالُوا الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللہِ تَعَالَی قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الشَّہَادَةُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللہِ الْمَطْعُونُ شَہِيدٌ وَالْغَرِقُ شَہِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَہِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَہِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَہِيدٌ

سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو اسے بیہوش پایا۔رسول اللہ ﷺ نے اسے ذرا زور سے بلایا ‘ مگر اس نے جواب نہ دیا ‘ تو آپ ﷺ نے ((إنا للہ وإنا إلیہ راجعون)) پڑھا اور فرمایا ’’اے ابوالربیع! تیرے معاملے میں ہم مغلوب ہیں (اللہ کا فیصلہ اور اس کی تقدیر ہی غالب ہے۔)‘‘ تو عورتیں چیخ پڑیں اور رونے لگیں۔ابن عتیک انہیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’انہیں چھوڑ دو مگر جب معاملہ ثابت ہو جائے تو پھر کوئی ہرگز نہ روئے۔‘‘ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ((وجوب)) (معاملہ ثابت ہو جانے) سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’موت۔‘‘ اس کی ایک بیٹی (عبداللہ کے متعلق) کہنے لگی: مجھے تو امید تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شہادت سے سرفراز فرمائے گا اور آپ نے اپنا سامان جہاد بھی تیار کر لیا تھا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ اللہ عزوجل نے اس کا اجر اس کی نیت کے مطابق دے دیا ہے۔اور تم لوگ شہادت کسے سمجھتے ہو؟‘‘ وہ کہنے لگے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جانا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی راہ میں قتل کے علاوہ بھی شہادت کے سات اسباب ہیں۔طاعون سے مرنے والا شہید ہے ‘ پانی میں ڈوب جانے والا شہید ‘ ذات الجنب سے مر جانے والا شہید ہے (ذات الجنب ایک سخت قسم کی بیماری ہے جس میں پسلی کے اندر ایک پھوڑا ہو جاتا ہے اکثر طور پر آدمی اس سے ہلاک ہو جاتا۔) ‘ پیٹ کی تکلیف سے مر جانے والا شہید ہے ‘ آگ میں جل مرنے والا شہید ہے ‘ کسی مکان یا دیوار کے نیچے آ کر مر جانے والا شہید ہے اور وہ عورت ‘ جو ولادت کی تکلیف (درد زہ) میں وفات پا جائے ‘ شہید ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ((الجمع)) سے مراد یہ ہے کہ بچہ بھی عورت کے ساتھ ہو (مر جائے)۔