Sunan Abi Dawood Hadith 3118 (سنن أبي داود)
[3118]صحیح
صحیح مسلم (920)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ أَبُو مَرْوَانَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرَہُ فَأَغْمَضَہُ فَصَيَّحَ نَاسٌ مِنْ أَہْلِہِ فَقَالَ لَا تَدْعُوا عَلَی أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَی مَا تَقُولُونَ ثُمَّ قَالَ اللہُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِي الْمَہْدِيِّينَ وَاخْلُفْہُ فِي عَقِبِہِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَہُ رَبَّ الْعَالَمِينَ اللہُمَّ افْسَحْ لَہُ فِي قَبْرِہِ وَنَوِّرْ لَہُ فِيہِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَتَغْمِيضُ الْمَيِّتِ بَعْدَ خُرُوجِ الرُّوحِ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ الْمُقْرِيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَيْسَرَةَ رَجُلًا عَابِدًا يَقُولُ غَمَّضْتُ جَعْفَرًا الْمُعَلِّمَ وَكَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِي حَالَةِ الْمَوْتِ فَرَأَيْتُہُ فِي مَنَامِي لَيْلَةَ مَاتَ يَقُولُ أَعْظَمُ مَا كَانَ عَلَيَّ تَغْمِيضُكَ لِي قَبْلَ أَنْ أَمُوتَ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ (روح قبض ہونے کے بعد) ان کی نظر پھٹ گئی تھی ‘ تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔پس ان کے گھر والے چیخ و پکار کرنے لگے ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنے لیے بد دعائیں مت کرو ‘ بلکہ اچھے بول بولو ‘ کیونکہ جو تم کہتے ہو اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے (بطور دعا) فرمایا ’’اے اللہ! ابوسلمہ کی بخشش فرما ‘ ہدایت یافتہ لوگوں کے ساتھ اس کے درجات بلند کر اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو ہی اس کا خلیفہ بن۔اور اے رب العلمین! ہماری اور اس کی مغفرت فرما ‘ اے اللہ! اس کی قبر کو فراخ اور روشن کر دے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میت کی آنکھیں اس کی روح نکل جانے کے بعد بند کی جائیں۔کہتے ہیں: میں نے محمد بن محمد نعمان القری سے سنا ‘ وہ کہتے تھے میں نے ابومیسرہ سے سنا جو کہ ایک عابد انسان تھے ‘ وہ کہتے تھے میں نے جعفر المعلم کی حالت موت (نزع) میں آنکھیں بند کر دیں اور یہ ایک عابد انسان تھے تو میں نے اسی رات خواب میں دیکھا کہ وہ مجھ سے کہہ رہے تھے میری موت سے پہلے ہی تمہارا میری آنکھیں بند کر دینا میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔