Sunan Abi Dawood Hadith 312 (سنن أبي داود)
[312]حسن
انظر الحدیث السابق
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ أَخْبَرَنَا زُہَيْرٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ أَبِي سَہْلٍ عَنْ مُسَّةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِہَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَكُنَّا نَطْلِي عَلَی وُجُوہِنَا الْوَرْسَ تَعْنِي مِنْ الْكَلَفِ
کثیر بن زیاد کہتے ہیں مجھ سے ازدیہ یعنی مسہ نے بیان کیا،وہ کہتی ہیں کہ میں حج کو گئی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی میں نے کہا: اے ام المؤمنین! سمرہ بن جندب (صحابی رسول) عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ ایام حیض کی نمازوں کی قضاء کیا کریں۔انہوں نے کہا: کوئی قضاء نہ کریں۔نبی کریم ﷺ کی عورتوں میں سے کوئی نفاس سے ہوتی تو چالیس رات بیٹھی رہتی۔نبی کریم ﷺ اسے ان دنوں کی نمازوں کی قضاء کا حکم نہ دیتے تھے۔محمد بن حاتم نے کہا کہ اس خاتون راویہ کا نام مسہ (میم کے ضمہ اور سین کی تشدید کے ساتھ) ہے۔اور اس کی کنیت ام بسہ ہے۔(ب کے ضمہ اور سین کی تشدید کے ساتھ)۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: کثیر بن زیاد کی کنیت ابوسہل ہے۔