Sunan Abi Dawood Hadith 3129 (سنن أبي داود)
[3129]صحیح
صحیح بخاری (3979، 3980، 3981) صحیح مسلم (932)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ عَبْدَةَ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ الْمَعْنَی عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَہْلِہِ عَلَيْہِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَہِلَ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی قَبْرٍ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَ ہَذَا لَيُعَذَّبُ وَأَہْلُہُ يَبْكُونَ عَلَيْہِ ثُمَّ قَرَأَتْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی قَالَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَلَی قَبْرِ يَہُودِيٍّ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔‘‘ یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے بیان کی گئی،تو انہوں نے کہا: (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھول گئے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ) نبی کریم ﷺ ایک قبر کے پاس سے گزرے تھے،تو فرمایا تھا ’’بیشک یہ قبر والا عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔‘‘ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی ((ولا تزر وازرۃ وزر أخری)) ’’کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔‘‘ ہناد نے ابومعاویہ سے روایت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک یہودی کی قبر کے پاس سے گزرے تھے۔