Sunan Abi Dawood Hadith 3130 (سنن أبي داود)
[3130]صحیح
وللحدیث شواھد عند البخاري (1296) ومسلم (104)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي مُوسَی وَہُوَ ثَقِيلٌ فَذَہَبَتْ امْرَأَتُہُ لِتَبْكِيَ أَوْ تَہُمَّ بِہِ فَقَالَ لَہَا أَبُو مُوسَی أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَالَتْ بَلَی قَالَ فَسَكَتَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو مُوسَی قَالَ يَزِيدُ لَقِيتُ الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ لَہَا مَا قَوْلُ أَبِي مُوسَی لَكِ أَمَا سَمِعْتِ قَوْلَ رَسُولِ اللہِ ﷺ ثُمَّ سَكَتِّ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَمَنْ سَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ
سیدنا یزید بن اوس کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا جب کہ وہ (بیماری کے باعث) بہت ہی تکلیف میں تھے،تو ان کی بیوی رونے لگی یا اس کی تیاری کرنے لگی۔سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں سنا؟ کہنے لگی: ہاں،میں نے سنا ہے۔چنانچہ وہ خاموش ہو رہی۔جب سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو یزید کہتے ہیں کہ میں اس خاتون سے ملا اور اس سے پوچھا کہ وہ کیا بات تھی جو ابوموسیٰ نے آپ سے کہی تھی کہ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں سنا اور پھر آپ خاموش ہو رہی تھیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ’’جو کوئی (مصیبت میں) بال مونڈے یا بین کرے (یا منہ پیٹے) یا کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘