Sunan Abi Dawood Hadith 3159 (سنن أبي داود)

[3159] إسنادہ ضعیف

عروۃ بن سعید و أبوہ: مجہولان (تقریب: 4562،2426)

انوار الصحیفہ ص 116، 117

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ أَبُو سُفْيَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ قَالَا حَدَّثَنَا عِيسَی قَالَ أَبُو دَاوُد ہُوَ ابْنُ يُونُسَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيہِ عَنْ الْحُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُہُ فَقَالَ إِنِّي لَا أَرَی طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيہِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِہِ وَعَجِّلُوا فَإِنَّہُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَہْرَانَيْ أَہْلِہِ

حصین بن وحوح سے روایت ہے کہ سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو نبی کریم ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا ’’میرا خیال ہے کہ طلحہ کی موت آ گئی ہے۔(جب ان کی وفات ہو جائے) تو مجھے اطلاع دینا اور جلدی کرنا ‘ مناسب نہیں کہ مسلمان کی میت اس کے گھر والوں کے پاس پڑی رہے۔‘‘