Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 316 (سنن أبي داود)

[316]صحیح

انظر الحدیثین السابقین وأخرجہ البیھقي (1/180) وسندہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ إِبْرَاہِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُہَاجِرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ ﷺ بِمَعْنَاہُ قَالَ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً قَالَتْ كَيْفَ أَتَطَہَّرُ بِہَا قَالَ سُبْحَانَ اللہِ تَطَہَّرِي بِہَا وَاسْتَتِرِي بِثَوْبٍ وَزَادَ وَسَأَلَتْہُ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ تَأْخُذِينَ مَاءَكِ فَتَطَّہَّرِينَ أَحْسَنَ الطُّہُورِ وَأَبْلَغَہُ ثُمَّ تَصُبِّينَ عَلَی رَأْسِكِ الْمَاءَ ثُمَّ تَدْلُكِينَہُ حَتَّی يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِكِ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُہُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَسْأَلْنَ عَنْ الدِّينِ وَأَنْ يَتَفَقَّہْنَ فِيہِ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا اور مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کیا۔اس میں ہے کہ کستوری کا پھاہا لے۔وہ کہنے لگی کہ اس سے کس طرح طہارت حاصل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کر۔‘‘ اور آپ علیہ السلام نے کپڑے سے اپنا منہ چھپا لیا۔اور اس میں اضافہ ہے کہ اس نے غسل جنابت کے متعلق پوچھا: آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنا پانی لو اور اس سے خوب اچھی طرح مکمل وضو کرو ‘ پھر اپنے سر پر پانی ڈالو ‘ پھر اسے ملو،حتیٰ کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔پھر باقی جسم پر پانی بہاؤ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں انہیں دین کے مسائل دریافت کرنے اور سمجھنے میں حیاء مانع نہیں ہوتی۔