Sunan Abi Dawood Hadith 3200 (سنن أبي داود)
[3200]إسنادہ حسن
علي بن شماخ ذکرہ ابن حبان فی الثقات وحسن لہ الحافظ ابن حجر فی الفتوحات الربانیۃ (5/176) مشکوۃ المصابیح (1688)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ قَالَ شَہِدْتُ مَرْوَانَ سَأَلَ أَبَا ہُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يُصَلِّي عَلَی الْجَنَازَةِ قَالَ أَمَعَ الَّذِي قُلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ كَلَامٌ كَانَ بَيْنَہُمَا قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ اللہُمَّ أَنْتَ رَبُّہَا وَأَنْتَ خَلَقْتَہَا وَأَنْتَ ہَدَيْتَہَا لِلْإِسْلَامِ وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَہَا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّہَا وَعَلَانِيَتِہَا جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَہُ قَالَ أَبُو دَاوُد أَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي اسْمِ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ قَالَ فِيہِ عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاسٍ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ إِبْرَاہِيمَ الْمُوصِلِيَّ يُحَدِّثُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ قَالَ مَا أَعْلَمُ أَنِّي جَلَسْتُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مَجْلِسًا إِلَّا نَہَی فِيہِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ
سیدنا مروان بن حکم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو جنازہ پڑھتے ہوئے کیسے سنا ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس سب کے باوجود جو تم نے کہا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔راوی نے وضاحت کی کہ ان دونوں کے مابین اس سے پہلے کوئی بات ہوئی تھی۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے ((اللہم أنت ربہا،وأنت خلقتہا،وأنت ہدیتہا للإسلام،وأنت قبضت روحہا،وأنت أعلم بسرہا وعلانیتہا،جئناک شفعاء،فاغفر لہ)) ’’اے اللہ! تو اس میت کا رب ہے،تو نے ہی اسے پیدا کیا ہے اور دین اسلام کی ہدایت دی ہے اور تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے اور تو اس کے باطن اور ظاہر سے بخوبی آگاہ ہے،ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں تو اسے معاف فرما دے‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ نے سند کے ایک راوی علی بن شماخ کے نام میں غلطی کرتے ہوئے اسے عثمان بن شماس کہہ دیا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے احمد بن ابراہیم موصلی سے سنا جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے روایت کرتے تھے کہ میں جب بھی حماد بن زید کی مجلس میں بیٹھا تو وہ عبدالوارث اور جعفر بن سلیمان سے روایت لینے سے منع کرتے تھے۔