Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 321 (سنن أبي داود)

[321]صحیح

صحیح بخاری (345، 346) صحیح مسلم (368)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا بَيْنَ عَبْدِ اللہِ وَأَبِي مُوسَی فَقَالَ أَبُو مُوسَی يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ الْمَاءَ شَہْرًا أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ فَقَالَ لَا وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ شَہْرًا فَقَالَ أَبُو مُوسَی فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِہَذِہِ الْآيَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَقَالَ عَبْدُ اللہِ لَوْ رُخِّصَ لَہُمْ فِي ہَذَا لَأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْہِمْ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ فَقَالَ لَہُ أَبُو مُوسَی وَإِنَّمَا كَرِہْتُمْ ہَذَا لِہَذَا قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَہُ أَبُو مُوسَی أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدَ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَتَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَہُ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ ہَكَذَا فَضَرَبَ بِيَدِہِ عَلَی الْأَرْضِ فَنَفَضَہَا ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِہِ عَلَی يَمِينِہِ وَبِيَمِينِہِ عَلَی شِمَالِہِ عَلَی الْكَفَّيْنِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْہَہُ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ

شقیق کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ابوموسیٰ نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! فرمائیے اگر کوئی آدمی جنبی ہو جائے اور ایک مہینے تک پانی نہ ملے تو کیا وہ تیمم نہیں کرے گا؟ (عبداللہ نے کہا) نہیں،اگرچہ وہ ایک مہینے تک پانی نہ پائے۔ابوموسیٰ نے کہا: تو آپ سورۃ المائدہ کی اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے ((فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا)) ’’اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔‘‘ سیدنا عبداللہ نے کہا: اگر انہیں اس کی رخصت دے دی جائے تو عین ممکن ہے کہ جب بھی پانی ٹھنڈا ہوا تو یہ مٹی سے تیمم کرنے لگیں گے۔ابوموسیٰ نے ان سے کہا: اچھا تو آپ اسی وجہ سے اسے مکروہ جانتے ہیں؟ کہا ہاں! ابوموسیٰ نے کہا: کیا آپ نے عمار کی وہ بات نہیں سنی جو انہوں نے عمر سے کہی تھی؟ کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام سے بھیجا اور میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا جیسے کہ جانور لوٹ پوٹ ہوتا ہے پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور اپنی بات بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’تمہیں تو بس یہی کافی تھا کہ اس طرح کر لیتے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا،پھر اسے جھاڑا،پھر اپنے چہرے کا مسح کیا۔تو عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) نے ان سے کہا: تو کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عمر نے عمار کی بات پر قناعت نہیں کی۔