Sunan Abi Dawood Hadith 3254 (سنن أبي داود)
[3254]حسن
أخرجہ ابن حبان (1187 وسندہ حسن) ورواہ البخاري (6663 موقوفًا)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ السَّامِيُّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاہِيمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ يَعْنِي الصَّائِغَ عَنْ عَطَاءٍ فِي اللَّغْوِ فِي الْيَمِينِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ ہُوَ كَلَامُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِہِ كَلَّا وَاللہِ وَبَلَی وَاللہِ قَالَ أَبُو دَاوُد كَانَ إِبْرَاہِيمُ الصَّائِغُ رَجُلًا صَالِحًا قَتَلَہُ أَبُو مُسْلِمٍ بِعَرَنْدَسَ قَالَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ الْمِطْرَقَةَ فَسَمِعَ النِّدَاءَ سَيَّبَہَا قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَی ہَذَا الْحَدِيثَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ إِبْرَاہِيمَ الصَّائِغِ مَوْقُوفًا عَلَی عَائِشَةَ وَكَذَلِكَ رَوَاہُ الزُّہْرِيُّ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ وَكُلُّہُمْ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا
جناب عطاء رحمہ اللہ سے لغو قسم کے بارے میں مروی ہے،انہوں نے کہا،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اس سب مراد وہ قسم ہے جو آدمی اپنے گھر میں ((کلا واللہ وبلی واللہ)) (نہیں ‘ قسم اللہ کی! ہاں قسم اللہ کی!) وغیرہ بولتا رہتا ہے۔‘‘ (اس کا تکیہ کلام ہوتا ہے اور قسم کا قصد نہیں ہوتا۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم صائغ ایک صالح آدمی تھے۔ان کو ابومسلم نے مقام عرندس میں قتل کر دیا تھا۔اور ان کا یہ معمول تھا کہ اگر ہتھوڑا اٹھایا ہوا ہوتا اور اذان سن لیتے تو وہیں چھوڑ دیتے تھے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو دادو بن ابی فرات نے بواسطہ ابراہیم صائغ،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف روایت کیا ہے اور ایسے ہی زہری ‘ عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے بواسطہ عطاء،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوف روایت کیا ہے۔