Sunan Abi Dawood Hadith 3268 (سنن أبي داود)

[3268]صحیح

صحیح بخاری (7000) صحیح مسلم (2269)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ يَحْيَی كَتَبْتُہُ مِنْ كِتَابِہِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: كَانَ أَبُو ہُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: إِنِّي أَرَی اللَّيْلَةَ... فَذَكَرَ رُؤْيَا،فَعَبَّرَہَا أَبُو بَكْرٍ،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ أَصَبْتَ بَعْضًا،وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا،فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللہِ! بِأَبِي أَنْتَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ؟ فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ: لَا تُقْسِمْ.

جناب ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: بیشک میں نے آج رات خواب دیکھا ہے اور پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا۔اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’تم نے کچھ میں درست کہا ہے اور کچھ میں خطا کی ہے۔‘‘ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں ‘ میرا باپ آپ پر فدا ہو! آپ مجھے ضرور بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی ہے ‘ تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا ’’قسم مت دو۔‘‘