Sunan Abi Dawood Hadith 3284 (سنن أبي داود)

[3284] إسنادہ ضعیف

المسعودي اختلط قبل موتہ (تقریب: 3919) وسماع یزید بن ھارون منہ بعد اختلاطہ (الکواکب النیرات ص55 ت 35)

انوار الصحیفہ ص 119، 120

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ،أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ،عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ ﷺ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً،فَقَالَ لَہَا: أَيْنَ اللہُ؟،فَأَشَارَتْ إِلَی السَّمَاءِ بِأُصْبُعِہَا،فَقَالَ لَہَا: فَمَنْ أَنَا؟،فَأَشَارَتْ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،وَإِلَی السَّمَاءِ-يَعْنِي: أَنْتَ رَسُولُ اللہِ-،فَقَالَ: أَعْتِقْہَا, فَإِنَّہَا مُؤْمِنَةٌ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ایک سیاہ رنگ لونڈی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا اور کہا: اے اﷲ کے رسول! میرے ذمے ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے ‘ تو آپ ﷺ نے اس (لونڈی) سے دریافت فرمایا ’’اﷲ کہاں ہے؟‘‘ اس نے انگلی کے اشارے سے کہا کہ آسمان پر ہے۔پھر آپ ﷺ نے پوچھا ’’میں کون ہوں؟‘‘ تو اس نے نبی کریم ﷺ اور آسمان کی طرف اشارے سے سمجھایا کہ آپ اﷲ کے رسول ہیں۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے آزاد کر دو بیشک یہ مومن ہے۔‘‘