Sunan Abi Dawood Hadith 330 (سنن أبي داود)
[330] إسنادہ ضعیف منکر
محمد بن ثابت العبدي: ضعفہ الجمہور لمخالفتہ الثقات فروایتہ منکرۃ،وانظر تحریر تقریب التہذیب (5771)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الْمَوْصِلِيُّ أَبُو عَلِيٍّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَضَی ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَہُ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِہِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي سِكَّةٍ مِنْ السِّكَكِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْہِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْہِ حَتَّی إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَی فِي السِّكَّةِ ضَرَبَ بِيَدَيْہِ عَلَی الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَی فَمَسَحَ ذِرَاعَيْہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَی الرَّجُلِ السَّلَامَ وَقَالَ إِنَّہُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَی طُہْرٍ قَالَ أَبُو دَاوُد سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ رَوَی مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدِيثًا مُنْكَرًا فِي التَّيَمُّمِ قَالَ ابْنُ دَاسَةَ قَالَ أَبُو دَاوُد لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي ہَذِہِ الْقِصَّةِ عَلَی ضَرْبَتَيْنِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَرَوَوْہُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ
جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک کام کے لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں گیا،تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا کام پورا کر لیا۔اس دن ان کی باتوں میں سے ایک یہ تھی کہ ایک گلی میں ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا جبکہ آپ پیشاب یا پاخانے سے فارغ ہو کر آئے تھے،تو اس نے آپ کو سلام کہا،مگر آپ نے جواب نہ دیا،حتیٰ کہ جب وہ گلی میں آنکھوں سے اوجھل ہونے کے قریب ہوا،تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اپنے چہرے پر پھیرے،پھر دوسری بار مارے اور اپنی کلائیوں پر پھیرے تب اس کے سلام کا جواب دیا،اور فرمایا ’’تیرے سلام کا جواب نہ دینے کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں طاہر نہ تھا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل کو سنا،وہ کہتے تھے کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے بارے میں ایک ’’منکر‘‘ حدیث روایت کی ہے،ابن داسہ کہتے ہیں کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: محمد بن ثابت کی اس قصے میں کسی نے متابعت (تائید) نہیں کی کہ ’’نبی کریم ﷺ نے دو دفعہ مارے۔‘‘ بلکہ اسے سیدنا ابن عمر کا فعل بیان کیا گیا ہے۔