Sunan Abi Dawood Hadith 3312 (سنن أبي داود)
[3312]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (3438)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَی رَأْسِكَ بِالدُّفِّ قَالَ أَوْفِي بِنَذْرِكِ قَالَتْ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا مَكَانٌ كَانَ يَذْبَحُ فِيہِ أَہْلُ الْجَاہِلِيَّةِ قَالَ لِصَنَمٍ قَالَتْ لَا قَالَ لِوَثَنٍ قَالَتْ لَا قَالَ أَوْفِي بِنَذْرِكِ
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے ‘ وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مان رکھی ہے کہ میں آپ کے سر کے پاس دف بجاؤں گی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنی نذر پوری کر لے۔‘‘ اس نے کہا: میں نے نذر مانی ہے کہ فلاں فلاں جگہ جانور ذبح کروں گی ‘ جہاں کہ اہل جاہلیت ذبح کیا کرتے تھے۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا وہاں کوئی مورتی تھی جس کے لیے وہ ذبح کرتے تھے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’تو کیا کوئی بت تھا جس کے لیے ذبح کرتے تھے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنی نذر پوری کر لے۔‘‘