Sunan Abi Dawood Hadith 3315 (سنن أبي داود)
[3315]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ،عَنْ أَبِيہَا... نَحْوَہُ،مُخْتَصَرٌ مِنْہُ شَيْءٌ قَالَ: ہَلْ بِہَا وَثَنٌ؟ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاہِلِيَّةِ؟،قَالَ: لَا،قُلْتُ: إِنَّ أُمِّي ہَذِہِ عَلَيْہَا نَذْرٌ وَمَشْيٌ،أَفَأَقْضِيہِ عَنْہَا؟-وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: أَنَقْضِيہِ عَنْہَا؟-قَالَ: نَعَمْ.
جناب عمرو بن شعیب نے سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا سے ‘ اس نے اپنے والد سے اسی کی مانند روایت کیا لیکن قدرے اختصار کے ساتھ۔آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا وہاں کوئی بت تھا یا جاہلیت کا میلہ تھا؟‘‘ کہا: کچھ بھی نہیں۔میں نے کہا: میری اس والدہ کے ذمے نذر ہے اور پیدل چلنا۔کیا میں اسے اس کی طرف سے قضاء ادا کروں؟ (اور بالفاط ابن بشار) کیا ہم اس کی طرف سے قضاء ادا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں۔‘‘