Sunan Abi Dawood Hadith 3314 (سنن أبي داود)
[3314] ضعیف
انظر الحدیث السابق (2103)
و حدیث الأصل (3315) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيُّ مِنْ أَہْلِ الطَّائِفِ قَالَ حَدَّثَتْنِي سَارَّةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّہَا سَمِعَتْ مَيْمُونَةَ بِنْتَ كَرْدَمٍ،قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي فِي حِجَّةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ،وَسَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ: رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَجَعَلْتُ أُبِدُّہُ بَصَرِي،فَدَنَا إِلَيْہِ أَبِي وَہُوَ عَلَی نَاقَةٍ لَہُ مَعَہُ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ،فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ: الطَّبْطَبِيَّةَ،الطَّبْطَبِيَّةَ! فَدَنَا إِلَيْہِ أَبِي،فَأَخَذَ بِقَدَمِہِ،قَالَتْ: فَأَقَرَّ لَہُ،وَوَقَفَ فَاسْتَمَعَ مِنْہُ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ, أَنْ أَنْحَرَ عَلَی رَأْسِ بُوَانَةَ،فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ-قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّہَا قَالَتْ: خَمْسِينَ؟-،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ہَلْ بِہَا مِنَ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ؟،قَالَ: لَا،قَال:َ فَأَوْفِ بِمَا نَذَرْتَ بِہِ لِلَّہِ. قَالَتْ: فَجَمَعَہَا،فَجَعَلَ يَذْبَحُہَا،فَانْفَلَتَتْ مِنْہَا شَاةٌ،فَطَلَبَہَا وَہُوَ يَقُولُ: اللہُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي،فَظَفِرَہَا فَذَبَحَہَا.
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوئی جب کہ رسول اللہ ﷺ حج کے لیے تشریف لے گئے تھے ‘ تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی۔میں نے لوگوں کو سنا ‘ کہتے تھے کہ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔میں آپ ﷺ جو خوب نظر بھر کر دیکھتی رہی۔پھر میرے ابا ان کے قریب ہوئے جبکہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپ ﷺ کے پاس ایک درہ تھا جیسے کہ مکتب کے معلم کے پاس ہوتا ہے۔میں نے بدویوں کو اور لوگوں کو سنا جو کہہ رہے تھے ((الطبطبیۃ،الطبطبیۃ)) (چلتے ہوئے پاؤں پڑنے کی آواز طب طب یا کوڑا مارنے کی آواز)۔میرے ابا،آپ ﷺ کے قریب ہوئے اور آپ ﷺ کے قدم پکڑ لیے اور آپ ﷺ کی رسالت کا اقرار کیا اور آپ ﷺ کے پاس کھڑے رہے اور آپ ﷺ کے ارشادات سنے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے ہاں لڑکے کی ولادت ہوئی تو میں بوانہ کے سرے پر گھاٹی میں کئی بکریاں ذبح کروں گا۔راوی کہتا ہے غالباً اس (میمونہ) نے پچاس کہیں۔رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا ’’کیا وہاں کوئی بت تھا؟ ’’کہا نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو تو نے اللہ کے لیے نذر مانی ہے اسے پورا کر۔‘‘ چنانچہ میرے ابا نے بکریاں کو جمع کیا اور انہیں ذبح کرنے لگے تو ان میں سے ایک بکری بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے نکلے اور کہتے جاتے تھے: ’’اے اللہ! مجھ سے میری نذر پوری کرا دے۔‘‘ چنانچہ انہوں نے اسے پا لیا اور پھر ذبح کر دیا۔