Sunan Abi Dawood Hadith 3317 (سنن أبي داود)
[3317]إسنادہ صحیح
أصلہ متفق علیہ، صحیح البخاري (4418) ومسلم (2769)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَابْنُ السَّرْحِ،قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ،قَالَ: قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ،أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ كَعْبٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيہِ حِينَ عَمِيَ،عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ؟ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ, فَہُوَ خَيْرٌ لَكَ. قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُمْسِكُ سَہْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ.
جناب عبداللہ بن کعب جو اپنے والد کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد ہوا کرتے تھے۔بیان کرتے ہیں کہ اس کے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنا مال صدقہ کر دوں اور اس سے دست بردار ہو جاؤں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھو ‘ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘ تو اس نے کہا: میں اپنا وہ حصہ جو خیبر والا ہے ‘ اپنے پاس رکھتا ہوں۔