Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 332 (سنن أبي داود)

[332]إسنادہ حسن

عمرو بن بجدان: وثقہ العجلي المعتدل وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والذھبي فحدیثہ لا ینزل عن درجۃ الحسن مشکوۃ المصابیح (530)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللہِ الْوَاسِطِيَّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ ابْدُ فِيہَا فَبَدَوْتُ إِلَی الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ فَسَكَتُّ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيہِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا فَقَالَ الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَی عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّہُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ وَقَالَ مُسَدَّدٌ غُنَيْمَةٌ مِنْ الصَّدَقَةِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَحَدِيثُ عَمْرٍو أَتَمُّ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے ابوذر! انہیں لے کر باہر جنگل میں چلے جاو۔‘‘ چنانچہ میں ربذہ کے بادیے میں چلا گیا۔پس میں جنبی ہو گیا تو پانچ چھ دن وہاں رہا پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آ گیا۔آپ ﷺ نے کہا ’’ابوذر!‘‘ تو میں خاموش رہا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تجھے تیری ماں گم کرے،ابوذر تیری ماں کے لیے افسوس۔‘‘ آپ نے میری خاطر ایک کالی سی لونڈی کو بلوایا تو وہ ایک بڑا سا پیالہ لے آئی،اس میں پانی تھا۔اس نے مجھے کپڑے سے پردہ کر دیا اور (دوسری طرف سے) میں اپنی سواری کی اوٹ میں ہو گیا اور غسل کیا تو (اس طرح) میرے سر سے گویا ایک پہاڑ اتر گیا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کا ذریعہ ہے اگرچہ دس سال تک (پانی نہ پائے) پھر جب تمہیں پانی ملے تو اسے اپنے جسم پر ڈالو۔یقیناً یہ بہتر ہے۔‘‘ مسدد نے بیان کیا کہ یہ بکریاں صدقے کی تھیں۔اور عمرو کی حدیث زیادہ کامل ہے۔