Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 333 (سنن أبي داود)

[333]حسن

رجل من بني عامر ھو عمرو بن بجدان (التقریب: 8522) وھو صحیح الحدیث وثقہ العجلي المعتدل وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والذھبي فحدیثہ لا ینزل عن درجۃ الحسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ قَالَ دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَأَہَمَّنِي دِينِي فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ فَقَالَ لِي اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِہَا قَالَ حَمَّادٌ وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِہَا ہَذَا قَوْلُ حَمَّادٍ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنْ الْمَاءِ وَمَعِي أَہْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَہُورٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ بِنِصْفِ النَّہَارِ وَہُوَ فِي رَہْطٍ مِنْ أَصْحَابِہِ وَہُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ فَقُلْتُ نَعَمْ ہَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ وَمَا أَہْلَكَكَ قُلْتُ إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنْ الْمَاءِ وَمَعِي أَہْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طُہُورٍ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِہِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا ہُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَی بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَہُورٌ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ الْمَاءَ إِلَی عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّہُ جِلْدَكَ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ لَمْ يَذْكُرْ أَبْوَالَہَا قَالَ أَبُو دَاوُد ہَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ وَلَيْسَ فِي أَبْوَالِہَا إِلَّا حَدِيثُ أَنَسٍ تَفَرَّدَ بِہِ أَہْلُ الْبَصْرَةِ

جناب ابوقلابہ،بنی عامر کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں،اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے اسلام قبول کر لیا مگر میرے ذہن نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔چنانچہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا،تو ابوذر نے بتایا کہ میں نے مدینہ کی آب و ہوا کو اپنے لیے ناموافق پایا۔پس رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے چند اونٹوں اور بکریوں کا حکم دیا (کہ اسے دے دی جائیں) اور مجھے فرمایا ’’ان کا دودھ پیو۔‘‘ حماد کی روایت میں ہے: ’’مجھے شک ہے کہ اس میں پیشاب کا بیان ہے یا نہیں۔‘‘ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں پانی سے دور ہوتا تھا اور میرے ساتھ میری اہلیہ بھی تھی اور مجھے جنابت پہنچتی تھی تو میں پانی کے بغیر ہی نماز پڑھ لیتا تھا۔پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا،دوپہر کا وقت تھا اور آپ ﷺ صحابہ کرام کی معیت میں مسجد کے سائے میں تشریف فرما تھے۔آپ ﷺ نے (مجھے دیکھ کر) فرمایا ’’ابوذر؟‘‘ میں نے کہا،جی،میں تو ہلاک ہو گیا،اے اللہ کے رسول! فرمایا ’’کس چیز نے ہلاک کر دیا تجھے؟‘‘ میں نے کہا: میں پانی سے دور ہوتا تھا،بیوی میرے ساتھ تھی اور مجھے جنابت پہنچتی تھی تو میں بغیر غسل کیے نماز پڑھتا رہا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے پانی لانے کا حکم فرمایا۔ایک سیاہ رنگ کی لونڈی ایک بڑا سا پیالہ لے آئی،پانی اس میں چھلک رہا تھا اور وہ پوری طرح بھرا ہوا بھی نہ تھا،تو میں نے اپنے اونٹ کی اوٹ میں ہو کر غسل کیا اور حاضر خدمت ہو گیا۔تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے اگرچہ تجھے دس سال تک پانی نہ ملے اور جب پانی مل جائے تو اسے اپنی جلد پر ڈالو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا تو اس میں ’’اونٹوں کے پیشاب‘‘ کا ذکر نہیں کیا اور یہ صحیح (بھی) نہیں ہے۔ہاں ان کے پیشاب کے بارے میں صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔(یعنی حدیث ((عرنین))) جس کی روایت میں اہل بصرہ متفرد ہیں۔