Sunan Abi Dawood Hadith 3326 (سنن أبي داود)
[3326]حسن
رواہ الترمذي (1208 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (2798)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ أَبِي وَائِلٍ،عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ،قَالَ: كُنَّا فِي عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ نُسَمَّی السَّمَاسِرَةَ،فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَسَمَّانَا بِاسْمٍ ہُوَ أَحْسَنُ مِنْہُ،فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ! إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُہُ اللَّغْوُ وَالْحَلْفُ, فَشُوبُوہُ بِالصَّدَقَةِ.
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہم تاجروں کو ((سماسرۃ)) (دلال) کہا جاتا تھا،تو نبی کریم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے اور ہمیں اس سے بہتر نام دیا اور فرمایا ’’اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت اور لین دین میں بہت سی بے جا باتیں ہوتی ہیں اور قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں،تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو۔“