Sunan Abi Dawood Hadith 334 (سنن أبي داود)
[334]صحیح
صححہ ابن حبان (202) والحاکم علٰی شرط الشیخین (1/177) ووافقہ الذھبي وسندہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی،أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِيرٍ،أَخْبَرَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ الْمِصْرِيِّ،عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَہْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ،ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟)) فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ وَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ اللہَ يَقُولُ: وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا [النساء: 29] فَضَحِكَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ مِصْرِيٌّ مَوْلَی خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ،وَلَيْسَ ہُوَ ابْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ
عبدالرحمٰن بن جبیر،سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ ذات سلاسل میں مجھے ایک ٹھنڈی رات احتلام ہو گیا،مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا،چنانچہ میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی،انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ذکر یا تو آپ ﷺ نے پوچھا ’’اے عمرو،کیا تو نے جنبی ہوتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی جماعت کرائی تھی؟‘‘ میں نے بتایا کہ کس وجہ سے میں نے غسل نہیں کیا تھا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اللہ کا فرمان سنا ہے ((ولا تقتلوا أنفسکم إن اللہ کان بکم رحیما)) ’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو،اللہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔‘‘ تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور کچھ نہ کہا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن جبیر مصری ہے،خرجہ بن حذافہ کا غلام ہے،اور یہ ابن جبیر بن نفیر نہیں ہے۔