Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 336 (سنن أبي داود)

[336] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (572)

الزبیر بن خریق: وثقہ ابن حبان وحدہ،وضعفہ الدارقطني فحدیثہ ضعیف،وقال أبو داود في حدیثہ: ’’لیس بالقوي‘‘ وقال ابن حجر: ’’لین الحدیث‘‘ (تقریب: 1994)

انوار الصحیفہ ص 26

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّہُ فِي رَأْسِہِ ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَہُ فَقَالَ ہَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ فَقَالُوا مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَی الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی النَّبِيِّ ﷺ أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ قَتَلُوہُ قَتَلَہُمْ اللہُ أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيہِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ شَكَّ مُوسَی عَلَی جُرْحِہِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْہَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِہِ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے تو ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگ گیا اور اس کے سر میں زخم ہو گیا،پھر اسے احتلام (بھی) ہو گیا۔اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا میرے لیے کوئی اجازت ہے کہ میں تیمم کر لوں؟ انہوں نے کہا کہ ہم تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے جبکہ تم کو پانی پر قدرت حاصل ہے،چنانچہ اس نے غسل کر لیا اور مر گیا۔جب ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے،آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی،تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’انہوں نے اس کو قتل کر ڈالا۔اللہ انہیں ہلاک کرے،انہوں نے پوچھ کیوں نہ لیا،جب کہ انہیں علم نہ تھا،بیشک عاجز (جاہل) کی شفاء سوال کر لینے میں ہے۔اس شخص کے لیے یہی کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھے رہتا۔موسیٰ کو شک ہوا کہ ((یعصر)) کا لفظ بولا یا ((یعصب)) کا (معنی دونوں کا پٹی باندھنا ہے) پھر اس پر مسح کرتا اور باقی سارا جسم دھو لیتا۔‘‘