Sunan Abi Dawood Hadith 3382 (سنن أبي داود)
[3382] إسنادہ ضعیف
’’شیخ من بني تمیم‘‘ مجہول کما قال المنذري (انظر عون المعبود264/3) والحدیث ضعفہ البغوي (شرح السنۃ: 2104)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَبُو دَاوُد كَذَا قَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَوْ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ ابْنُ عِيسَی ہَكَذَا حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ قَالَ سَيَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَی مَا فِي يَدَيْہِ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ قَالَ اللہُ تَعَالَی وَلَا تَنْسَوْا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ وَقَدْ نَہَی النَّبِيُّ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ وَبَيْعِ الْغَرَرِ وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا لوگوں پر ایسا وقت آئے گا جو کاٹ کھانے والا ہو گا ‘ صاحب وسعت (صاحب مال) اپنے مال کو اپنے دانتوں سے پکڑے ہو گا (کہ صدقہ کرے گا نہ قرضہ دے گا بلکہ بخیل بنا رہے گا) حالانکہ اسے اس بات کا حکم نہیں۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’آپس میں احسان کرنے کو مت بھولو۔‘‘ اور مجبور لوگ (مجبوری کی وجہ سے) بیع کریں گے حالانکہ نبی کریم ﷺ نے مجبوری کی بیع سے منع فرمایا ہے اور دھوکے کی بیع اور پھلوں کے تیار ہو جانے سے پہلے انہیں فروخت کر دینے سے منع فرمایا ہے۔