Sunan Abi Dawood Hadith 3387 (سنن أبي داود)
[3387]إسنادہ حسن
عمر بن حمزۃ: حسن الحدیث وثقہ الجمھور، ورواہ البخاري (2272) ومسلم (2743)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللہِ عَنْ أَبِيہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرْقِ الْأَرُزِّ فَلْيَكُنْ مِثْلَہُ قَالُوا وَمَنْ صَاحِبُ فَرْقِ الْأَرُزِّ يَا رَسُولَ اللہِ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ حِينَ سَقَطَ عَلَيْہِمْ الْجَبَلُ فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ اذْكُرُوا أَحْسَنَ عَمَلِكُمْ قَالَ وَقَالَ الثَّالِثُ اللہُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا أَمْسَيْتُ عَرَضْتُ عَلَيْہِ حَقَّہُ فَأَبَی أَنْ يَأْخُذَہُ وَذَہَبَ فَثَمَّرْتُہُ لَہُ حَتَّی جَمَعْتُ لَہُ بَقَرًا وَرِعَاءَہَا فَلَقِيَنِي فَقَالَ أَعْطِنِي حَقِّي فَقُلْتُ اذْہَبْ إِلَی تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِہَا فَخُذْہَا فَذَہَبَ فَاسْتَاقَہَا
جناب سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ ﷺ فرماتے تھے ’’تم میں سے جو کوئی چاولوں کے ٹوپے والے کی مانند بن سکتا ہو تو بن جائے۔’’صحابہ نے پوچھا کہ اے اﷲ کے رسول! یہ چاولوں کے ٹوپے والا کون ہے؟ تو آپ نے غار والوں کی حدیث بیان کی جب کہ ان پر ایک چٹان آ پڑی تھی۔تو ان میں سے ہر ایک نے کہا تھا کہ اپنا بہترین عمل بیان کرو۔چنانچہ تیسرے آدمی نے کہا: ’’اے اﷲ! تو بخوبی جانتا ہے کہ میں ایک مزدور لایا اور اس کے ساتھ چاولوں کا ایک ٹوپہ مزدوری طے کی۔جب شام ہوئی تو میں نے اسے اس کا حق پیش کیا ‘ مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا۔تو پھر میں نے انہیں کاشت کر دیا حتیٰ کہ اس کے لیے گائیں اور چرواہے اکٹھے کر لیے۔پھر وہ مجھے ملا اور کہنے لگا کہ میرا حق مجھے دے دو۔تو میں نے کہا: جاؤ یہ گائیں اور ان کے چرواہے لے جاؤ۔چنانچہ وہ انہیں ہانک لے گیا۔‘‘