Sunan Abi Dawood Hadith 3402 (سنن أبي داود)
[3402] إسنادہ ضعیف
بکیر ضعیف
والحدیث صححہ الحاکم (41/2) فقال الذھبي: ’’بکیر ضعیف‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّہُ زَرَعَ أَرْضًا فَمَرَّ بِہِ النَّبِيُّ ﷺ وَہُوَ يَسْقِيہَا فَسَأَلَہُ لِمَنْ الزَّرْعُ وَلِمَنْ الْأَرْضُ فَقَالَ زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي لِي الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ فَقَالَ أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَی أَہْلِہَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس نے زمین کاشت کر رکھی تھی کہ نبی کریم ﷺ وہاں سے گزرے جبکہ وہ اسے پانی دے رہا تھا۔تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ’’یہ کس نے کاشت کی ہے اور زمین کس کی ہے۔‘‘ عرض کیا کہ کاشت میری ہے،بیج میرا ہے اور محنت بھی میری ہے،مجھے آدھا حصہ ملے گا اور آدھا بنو فلاں کو۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم دونوں نے سود کا معاملہ کیا،زمین اس کے مالکوں کو واپس کر دو اور اپنا خرچ لے لو۔‘‘