Sunan Abi Dawood Hadith 3401 (سنن أبي داود)

[3401] إسنادہ ضعیف

نسائی (3958)

ابن سہل بن رافع: لم یوثقہ غیر ابن حبان وقال الحافظ فی التقریب (5296):’’مقبول‘‘ أي مجہول الحال

انوار الصحیفہ ص 122

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

قَالَ أَبُو دَاوُد قَرَأْتُ عَلَی سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قُلْتُ لَہُ حَدَّثَكُمْ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَہْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَہُ فَجَاءَہُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَہْلٍ فَقَالَ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْہَمٍ فَقَالَ دَعْہُ فَإِنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَہَی عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ

عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ میں یتیم تھا اور (اپنے دادا) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں تھا۔میں نے ان کے ساتھ حج بھی کیا۔میرا بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آیا اور کہا کہ ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم کے بدلے ٹھیکے پر دے دی ہے۔تو انہوں نے کہا کہ اسے چھوڑ دو۔نبی کریم ﷺ نے زمین کرائے (ٹھیکے) پر دینے سے منع فرمایا ہے۔