Sunan Abi Dawood Hadith 3437 (سنن أبي داود)
[3437]إسنادہ صحیح
أخرجہ الترمذي (1221 وسندہ صحیح) ورواہ مسلم (1519)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ،حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ،عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَہَی عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ،فَإِنْ تَلَقَّاہُ مُتَلَقٍّ مُشْتَرٍ فَاشْتَرَاہُ،فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ: لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ،أَنْ يَقُولَ: إِنَّ عِنْدِي خَيْرًا مِنْہُ بِعَشَرَةٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ منڈی میں سامان لانے والوں سے راستے ہی میں ملاقات کی جائے (یعنی سامان خرید لیا جائے) اگر کوئی خریدار اس سے ملا ہو اور سامان خریدا ہو تو مال والے کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا،سفیان رحمہ اللہ نے کہا: کوئی شخص کسی کے سودے پر سودا نہ کرے یعنی یوں کہے کہ میرے پاس اس سے دس گنا بہتر ہے۔(ایسا کہنا جائز نہیں۔)