Sunan Abi Dawood Hadith 3467 (سنن أبي داود)

[3467] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (2284)

رجل نجراني: مجہول (عون المعبود 293/3)

وأبو إسحاق عنعن

انوار الصحیفہ ص 124

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ رَجُلٍ نَجْرَانِيٍّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ،أَنَّ رَجُلًا أَسْلَفَ رَجُلًا فِي نَخْلٍ،فَلَمْ تُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا،فَاخْتَصَمَا إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَقَالَ: بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَہُ؟ ارْدُدْ عَلَيْہِ مَالَہُ،ثُمَّ قَالَ: لَا تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ،حَتَّی يَبْدُوَ صَلَاحُہُ.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے ایک کھجور کے پھل کی بیع سلم (بیع سلف) کر لی لیکن اس سال اس پر کوئی پھل نہ آیا تو وہ اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے۔آپ ﷺ نے (کھجور والے سے) فرمایا ’’تم کیونکر اس کا مال حلال سمجھتے ہو؟ اس کا مال اسے واپس کر دو۔‘‘ پھر فرمایا ’’کھجور (یا باغ) کی بیع سلف مت کرو یہاں تک کہ پھل استعمال کے قابل ہو جائے۔‘‘ (خاص درخت یا خاص باغ مراد ہے)۔