Sunan Abi Dawood Hadith 3488 (سنن أبي داود)

[3488]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَنَّ بِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ وَخَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللہِ حَدَّثَاہُمْ الْمَعْنَی عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ بَرَكَةَ قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ثُمَّ اتَّفَقَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ جَالِسًا عِنْدَ الرُّكْنِ قَالَ فَرَفَعَ بَصَرَہُ إِلَی السَّمَاءِ فَضَحِكَ فَقَالَ لَعَنَ اللہُ الْيَہُودَ ثَلَاثًا إِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَيْہِمْ الشُّحُومَ فَبَاعُوہَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَہَا وَإِنَّ اللہَ إِذَا حَرَّمَ عَلَی قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْہِمْ ثَمَنَہُ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الطَّحَّانِ رَأَيْتُ وَقَالَ قَاتَلَ اللہُ الْيَہُودَ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (بیت اللہ میں) حجر اسود کے پاس بیٹھے دیکھا۔آپ ﷺ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور ہنس دیے۔پھر فرمایا ’’اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے،تین بار فرمایا،اللہ تعالیٰ نے ان پر چربیوں کا استعمال حرام کر دیا تو انہوں نے اسے بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کر دیتا ہے،تو اس کی قیمت بھی حرام کر دیتا ہے۔‘‘ خالد بن عبداللہ الطحان کی روایت میں ((رأیت)) ’’میں نے دیکھا‘‘ کا جملہ نہیں ہے۔اور ((لعن اللہ الیہود)) کی بجائے ((قاتل اللہ الیہود)) کہا: یعنی ’’اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے۔‘‘