Sunan Abi Dawood Hadith 3507 (سنن أبي داود)
[3507] ضعیف
انظر الحدیث السابق (3506) و إن کان ھذا من قول قتادۃ فسندہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ،حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ،حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ،عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ،زَادَ: إِنْ وَجَدَ دَاءً فِي الثَّلَاثِ لَيَالِي رُدَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ،وَإِنْ وَجَدَ دَاءً بَعْدَ الثَّلَاثِ كُلِّفَ الْبَيِّنَةَ،أَنَّہُ اشْتَرَاہُ وَبِہِ ہَذَا الدَّاءُ. قَالَ أَبو دَاود: ہَذَا التَّفْسِيرُ مِنْ كَلَامِ قَتَادَةَ.
جناب قتادہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور مزید کہا اگر تین (دن) رات تک اس میں کسی عیب سے مطلع ہوا تو گواہ پیش کیے بغیر ہی اسے واپس کر سکے گا۔اور اگر تین دن کے بعد مطلع ہوا تو اسے گواہ پیش کرنا ہو گا کہ جب اسے خریدا تھا تو اس میں یہ عیب تھا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توضیح جناب قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔