Sunan Abi Dawood Hadith 3534 (سنن أبي داود)

[3534] إسنادہ ضعیف

حمید الطویل مدلس وعنعن

انوار الصحیفہ ص 125

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَہُمْ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاہَكَ الْمَكِّيِّ قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ كَانَ وَلِيَّہُمْ فَغَالَطُوہُ بِأَلْفِ دِرْہَمٍ فَأَدَّاہَا إِلَيْہِمْ فَأَدْرَكْتُ لَہُمْ مِنْ مَالِہِمْ مِثْلَيْہَا قَالَ قُلْتُ أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَہَبُوا بِہِ مِنْكَ قَالَ لَا حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَی مَنْ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ

جناب یوسف بن ماہک مکی کا بیان ہے کہ فلاں آدمی کئی یتیموں کا سر پرست تھا اور میں اس کا خرچ لکھا کرتا تھا۔ان یتیموں نے اسے ایک ہزار درہم کا مغالطہ دیا جو اس نے ان کو ادا کر دیا۔پھر میں نے (کاتب نے) ان کے مال میں دوگنا پایا۔میں نے اس سے کہا: وہ ہزار جو انہوں نے تجھ سے (مغالطہ دے کر) لیے ہیں نکال لو۔اس (ولی) نہ کہا: نہیں۔مجھے میرے والد نے بیان کیا ہے،اس نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا: جو تجھے امین بنائے،تو اس کی امانت اسے واپس کر دے اور جو تیری خیانت کرے،تو اس کی خیانت نہ کر۔“