Sunan Abi Dawood Hadith 3533 (سنن أبي داود)
[3533]صحیح
صحیح مسلم (1714)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: جَاءَتْ ہِنْدٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ! فَہَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أُنْفِقَ عَلَی عِيَالِہِ مِنْ مَالِہِ بِغَيْرِ إِذْنِہِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي بِالْمَعْرُوفِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہند نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک (میرا شوہر) ابوسفیان بخیل آدمی ہے۔میں اگر اس کے مال میں سے اس کے عیال (بچوں) پر اس کی اجازت کے بغیر خرچ کروں،تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’دستور کے مطابق خرچ کرو،تو تم پر کوئی حرج نہیں۔‘‘