Sunan Abi Dawood Hadith 3573 (سنن أبي داود)

[3573] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (2315)

خلف بن خلیفۃ صدوق اختلط فی الآخر ورواہ الترمذي (1322م) من طریق آخر ضعیف

وللحدیث شواھد ضعیفۃ

انوار الصحیفہ ص 127

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي ہَاشِمٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ وَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَانِ فِي النَّارِ فَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ فَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَی بِہِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فِي الْحُكْمِ فَہُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ قَضَی لِلنَّاسِ عَلَی جَہْلٍ فَہُوَ فِي النَّارِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَہَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِيہِ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ

جناب (عبداللہ بن بریدہ) بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں ایک جنت میں ہے اور دو آگ میں۔جنت میں جانے والا وہ ہے جس نے حق پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا ‘ اور جس نے حق پہچانا اور پھر فیصلے میں ظلم کیا تو وہ آگ میں ہے ‘ اور جس نے جاہل ہوتے ہوئے لوگوں کے فیصلے کیے وہ بھی آگ میں ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس موضوع میں یہ حدیث صحیح ترین ہے۔یعنی ابن بریدہ کی حدیث کہ قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں۔