Sunan Abi Dawood Hadith 3577 (سنن أبي داود)

[3577] إسنادہ ضعیف

الأعمش مدلس و عنعن

انوار الصحیفہ ص 127

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ الْأَزْرَقِ قَالَ دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَبْوَابِ كِنْدَةَ وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ جَالِسٌ فِي حَلْقَةٍ فَقَالَا أَلَا رَجُلٌ يُنَفِّذُ بَيْنَنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْحَلْقَةِ أَنَا فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ كَفًّا مِنْ حَصًی فَرَمَاہُ بِہِ وَقَالَ مَہْ إِنَّہُ كَانَ يُكْرَہُ التَّسَرُّعُ إِلَی الْحُكْمِ

جناب عبدالرحمٰن بن بشر الانصاری الازرق کہتے ہیں (کہ غالبا کوفہ میں) باب کندہ کی طرف سے دو آدمی آئے جبکہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ حلقے میں تشریف فرما تھے۔ان دونوں نے کہا: کیا کوئی ہم میں فیصلہ نہیں کر دیتا؟ حلقے میں سے ایک آدمی نے کہا: میں کر دیتا ہوں۔تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کنکریوں کی مٹھی بھری اور اسے دے ماری اور فرمایا: باز رہو۔فیصلہ کرنے میں جلد بازی (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں) ناپسند سمجھی جاتی تھی۔