Sunan Abi Dawood Hadith 3592 (سنن أبي داود)

[3592] إسنادہ ضعیف

السند مرسل

وانظر الحدیث الآتي (3593)

انوار الصحیفہ ص 128

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،عَنْ شُعْبَةَ،عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ-،عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَہْلِ حِمْصَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ, أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ قَالَ: كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟. قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللہِ! قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللہِ؟،قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،وَلَا فِي كِتَابِ اللہِ؟!،قَالَ: أَجْتَہِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو،فَضَرَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ صَدْرَہُ،وَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللہِ،لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللہِ.

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بعض اصحاب نے روایت کیا جو اہل حمص میں سے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ارادہ فرمایا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجیں تو آپ ﷺ نے پوچھا ’’جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش ہو گا تو فیصلہ کیسے کرو گے؟‘‘ انہوں نے کہا: میں اﷲ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر کتاب اﷲ میں نہ ملا تو؟‘‘ کہا کہ پھر رسول اللہ ﷺ کی سنت سے۔فرمایا ’’اگر رسول اللہ ﷺ کی سنت اور کتاب اﷲ میں بھی نہ ملا تو؟‘‘ کہا کہ میں اپنی رائے استعمال کرنے میں کمی نہیں کروں گا۔تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا سینہ تھپکایا اور فرمایا ’’حمد ہے اس اﷲ کی جس نے رسول اﷲ کے پیامبر کو اس بات کی توفیق دی جس پر اﷲ کا رسول خوش ہے۔‘‘