Sunan Abi Dawood Hadith 3607 (سنن أبي داود)

[3607]صحیح

أخرجہ النسائي (4651 وسندہ صحیح) الزھري صرح بالسماع عند أحمد (5/215، 216)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَہُمْ،أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ،أَنَّ عَمَّہُ حَدَّثَہُ-وَہُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ-،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ،فَاسْتَتْبَعَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَہُ ثَمَنَ فَرَسِہِ،فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ،وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ،فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَہُ بِالْفَرَسِ،وَلَا يَشْعُرُونَ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَہُ،فَنَادَی الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا ہَذَا الْفَرَسِ،وَإِلَّا بِعْتُہُ،فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ،فَقَالَ: أَوْ لَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُہُ مِنْكَ؟،فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا وَاللہِ،مَا بِعْتُكَہُ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: بَلَی قَدِ ابْتَعْتُہُ مِنْكَ،فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: ہَلُمَّ شَہِيدًا! فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا أَشْہَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَہُ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ عَلَی خُزَيْمَةَ،فَقَالَ: بِمَ تَشْہَدُ؟. فَقَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللہِ! فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ شَہَادَةَ خُزَيْمَةَ بِشَہَادَةِ رَجُلَيْنِ.

جناب عمارہ بن خزیمہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا نے بیان کیا جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بدوی سے گھوڑا خریدا۔اور بدوی سے کہا کہ میرے ساتھ آؤ تاکہ تمہارے گھوڑے کی قیمت ادا کر دوں۔رسول اللہ ﷺ جلدی جلدی چلے جبکہ اعرابی آہستہ آہستہ چلا۔تو لوگ اس بدوی کے سامنے آئے اور گھوڑے کا سودا کرنے گلے۔انہیں علم نہیں تھا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے خرید لیا ہے۔تو اس بدوی نے رسول اللہ ﷺ کو پکارا اور کہا: اگر گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لو ورنہ میں اسے فروخت کر دوں گا۔نبی کریم ﷺ اس کی آواز سن کر رک گئے اور فرمایا ’’کیا میں نے اسے تم سے خرید نہیں لیا؟‘‘ بدوی نے کہا: نہیں قسم اللہ کی! میں نے تو اسے تم کو نہیں بیچا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیوں نہیں ‘ میں نے تم سے خرید لیا ہے۔‘‘ بدوی کہنے لگا چلو گواہ لاؤ۔تو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بولے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے یہ بیچ دیا ہے۔نبی کریم ﷺ خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’تم کس طرح گواہی دیتے ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی بنا پر (یعنی آپ اللہ کے رسول ہیں جھوٹ نہیں بول سکتے اور آپ ہمیں وہ کچھ بتاتے ہیں جو ہم ملاحظہ نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود ہم وہ سب کچھ تسلیم کرتے ہیں تو یہ کیوں نہیں تسلیم کر سکتے۔) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔