Sunan Abi Dawood Hadith 3631 (سنن أبي داود)
[3631]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ, وَمُؤَمَّلُ بْنُ ہِشَامٍ, قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ،عَنْ بَہْزِ بْنِ حَكِيمٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ, قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ إِنَّ أَخَاہُ أَوْ عَمَّہُ, وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: إِنَّہُ قَامَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ يَخْطُبُ،فَقَالَ: جِيرَانِي بِمَا أُخِذُوا! فَأَعْرَضَ عَنْہُ مَرَّتَيْنِ،ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: خَلُّوا لَہُ عَنْ جِيرَانِہِ. لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ وَہُوَ يَخْطُبُ.
جناب بہز بن حکیم اپنے والد سے وہ ان کے دادا (سیدنا معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ابن قدامہ نے کہا: معاویہ رضی اللہ عنہ کا بھائی یا چچا اور مؤمل (مؤمل ابن ہشام) نے کہا: بیشک وہ (معاویہ) نبی کریم ﷺ کے روبرو کھڑا ہوا جبکہ آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔اس نے کہا: میرے ہمسایوں کو کس بنا پر پکڑا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے اس سے دو بار اعراض فرمایا۔پھر معاویہ نے کچھ کہا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اس کے ہمسایوں کو رہا کر دو۔‘‘ مؤمل نے اپنی روایت میں ’’خطبہ دینے کا‘‘ ذکر نہیں کیا۔