Sunan Abi Dawood Hadith 3638 (سنن أبي داود)

[3638]حسن

رواہ ابن ماجہ (2481 وسندہ حسن) والحدیث الآتي (3639) شاھد لہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ،عَنْ أَبِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ،عَنْ أَبِيہِ ثَعْلَبَةَ ابْنِ أَبِي مَالِكٍ،أَنَّہُ سَمِعَ كُبَرَاءَہُمْ يَذْكُرُونَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ لَہُ سَہْمٌ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ،فَخَاصَمَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي مَہْزُورٍ-يَعْنِي: السَّيْلَ الَّذِي يَقْتَسِمُونَ مَاءَہُ-،فَقَضَی بَيْنَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْمَاءَ إِلَی الْكَعْبَيْنِ،لَا يَحْبِسُ الْأَعْلَی عَلَی الْأَسْفَلِ.

جناب ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بڑوں سے سنا تھا،وہ بیان کرتے تھے کہ بنو قریظہ میں ایک قریشی کا زمین کا ایک قطعہ تھا۔وادی مہزور میں ان لوگوں کا پانی کے سلسلے میں تنازع ہو گیا جسے وہ آپس میں تقسیم کیا کرتے تھے۔وہ یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔تو آپ ﷺ نے ان میں فیصلہ فرمایا کہ جب پانی ٹخنے ٹخنے ہو جائے تو پھر اوپر والا اسے نیچے والے کی طرف جانے سے مت روکے۔