Sunan Abi Dawood Hadith 3637 (سنن أبي داود)
[3637]صحیح
صحیح بخاری (2359، 2360) صحیح مسلم (2357)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ،حَدَّثَنَا اللَّيْثِ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَيْرِ،حَدَّثَہُ أَنَّ رَجُلًا خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِہَا،فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ،فَأَبَی عَلَيْہِ الزُّبَيْرُ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ،ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَی جَارِكَ،قَالَ: فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،ثُمَّ قَالَ: اسْقِ،ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّی يَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: فَوَاللہِ إِنِّي لَأَحْسَبُ ہَذِہِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَكِّمُوكَ...[النساء: 65] الْآيَةَ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پتھریلی زمین میں سے آنے والے پانی کے ایک نالے کے سلسلے میں یدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا جس سے یہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے۔انصاری نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی کو چھوڑیں اور آگے آنے دیں۔سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔(چاہا کہ پہلے وہ خود سیراب کر لیں) تو نبی کریم ﷺ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’زبیر! پہلے تم پانی لے لو پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑ دیا کرو۔‘‘ اس پر انصاری ناراض ہو گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! چونکہ یہ آپ کا پھوپھی زاد ہے (اس لیے آپ نے یہ فیصلہ کیا ہے۔) تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ بدل گیا۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’زبیر! کھیت کو پانی دے۔پھر اسے روک لے حتیٰ کہ کھیت کی منڈیر تک چڑھ جائے۔‘‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت کریمہ اس سلسلے میں نازل ہوئی تھی ((فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک)) ’’قسم تیرے رب کی! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ یہ اپنے تمام تنازعات میں آپ کو اپنا قاضی اور فیصل نہ مان لیں،پھر جو فیصلہ آپ کر دیں اس کے بارے میں ان کے دلوں میں کوئی تنگی بھی نہ آئے اور خوب خوشی سے تسلیم کر لیں۔“