Sunan Abi Dawood Hadith 3641 (سنن أبي داود)
[3641] إسنادہ ضعیف
ترمذی (2682) ابن ماجہ (223)
داود بن جمیل وشیخہ کثیر بن قیس: ضعیفان (تقریب: 1778،5624)
وانظر ضعیف سنن الترمذي (2650)
وحدیث مسلم (2699) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ دَاوُدَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ يُحَدِّثُ،عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ،عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ،قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ،فَجَاءَہُ رَجُلٌ،فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ! إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ! لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ! قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيہِ عِلْمًا سَلَكَ اللہُ بِہِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ،وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَہَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ،وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَہُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ،وَمَنْ فِي الْأَرْضِ،وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ،وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَی سَائِرِ الْكَوَاكِبِ،وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ،وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْہَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ،فَمَنْ أَخَذَہُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.
جناب کثیر بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے ابوالدرداء! میں ایک حدیث کی خاطر مدینۃ الرسول سے آپ کی خدمت میں آیا ہوں۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اسے رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔مجھے یہاں اس کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔تو انہوں نے کہا: بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ہے فرماتے تھے ’’جو شخص کسی راستے میں حصول علم کی خاطر چلا ہو،تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کی راہوں میں سے ایک راہ پر چلائے گا۔اور بلاشبہ فرشتے طالب علم کی رضا مندی کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں،اور صاحب علم کے لیے آسمانوں میں بسنے والے،زمین میں رہنے والے اور پانی کے اندر مچھلیاں بھی مغفرت طلب کرتی ہیں۔اور بلاشبہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسے ہی ہے جیسے کہ چودھویں کے چاند کی سب ستاروں پر ہوتی ہے،بلاشبہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کوئی درہم و دینار ورثے میں نہیں چھوڑے ہیں۔انہوں نے علم کی وراثت چھوڑی ہے۔جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے بڑا نصیبہ (وافر حصہ) پایا۔‘‘