Sunan Abi Dawood Hadith 3646 (سنن أبي داود)
[3646]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاہَكَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ أُرِيدُ حِفْظَہُ فَنَہَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُہُ وَرَسُولُ اللہِ ﷺ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنْ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِہِ إِلَی فِيہِ فَقَالَ اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ مَا يَخْرُجُ مِنْہُ إِلَّا حَقٌّ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے منقول ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے میں جو کچھ سنتا وہ سب لکھ لیا کرتا تھا تاکہ اسے حفظ کر لوں۔تو (بعض) قریشیوں نے مجھے منع کیا۔انہوں نے کہا: تو ہر بات،جو سنتا ہے،لکھ لیتا ہے،حالانکہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں غصے اور خوشی (دونوں حالتوں) میں گفتگو کرتے ہیں،تو میں نے لکھنا موقوف کر دیا اور یہ بات رسول اللہ ﷺ سے عرض کی۔تو آپ ﷺ نے اپنے دہن مبارک کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ’’لکھا کرو،قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس سے سوائے حق کے اور کچھ نکلتا ہی نہیں ہے۔“