Sunan Abi Dawood Hadith 3655 (سنن أبي داود)
[3655]صحیح
صحیح مسلم (2493)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَہْرِيُّ،أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَہُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،قَالَتْ: أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو ہُرَيْرَةَ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَی جَانِبِ حُجْرَتِي،يُحَدِّثُ،عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ،وَكُنْتُ أُسَبِّحُ،فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي،وَلَوْ أَدْرَكْتُہُ لَرَدَدْتُ عَلَيْہِ! إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ مِثْلَ سَرْدِكُمْ.
سیدنا عروہ بن زبیر سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں ابوہریرہ پر تعجب نہیں آتا کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے پاس بیٹھ کر مجھے سنانے کو،رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بیان کرنے لگے ‘ جبکہ میں نوافل پڑھ رہی تھی ‘ اور پھر میرے نماز مکمل کرنے سے پہلے ہی اٹھ کر چل دیے۔اگر میں انہیں پاتی تو میں انہیں بتاتی کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح تیز تیز باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔