Sunan Abi Dawood Hadith 3729 (سنن أبي داود)

[3729]صحیح

صحیح مسلم (2042)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيرٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُسْرٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْہِ فَقَدَّمَ إِلَيْہِ طَعَامًا فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاہُ بِہِ ثُمَّ أَتَاہُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَی يَمِينِہِ وَأَكَلَ تَمْرًا فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَی عَلَی ظَہْرِ أُصْبُعَيْہِ السَّبَّابَةُ وَالْوُسْطَی فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِہِ فَقَالَ ادْعُ اللہَ لِي فَقَالَ اللہُمَّ بَارِكْ لَہُمْ فِيمَا رَزَقْتَہُمْ وَاغْفِرْ لَہُمْ وَارْحَمْہُمْ

سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ جو قبیلہ بنی سلیم سے ہیں ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے والد کے ہاں تشریف لائے اور کچھ دیر ٹھہرے۔میرے والد نے آپ ﷺ کو کھانا پیش کیا۔انہوں نے ذکر کیا کہ وہ کھانا حیس (ایک خاص قسم کا کھانا جو کھجور،پنیر،گھی اور آٹے وغیرہ کا مرکب ہوتا ہے) تھا جو لایا گیا۔پھر وہ مشروب لائے جو آپ ﷺ نے نوش فرمایا،پھر اپنے دائیں طرف والے کو دے دیا،اور آپ ﷺ نے کھجوریں کھائیں اور گٹھلیاں اپنی انگشت شہادت اور ساتھ والی انگلی کی پشت پر رکھتے گئے۔پھر جب آپ ﷺ وہاں سے اٹھے تو میرے والد نے اٹھ کر آپ ﷺ کی سواری کی لگام تھام لی اور عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے دعا فرمائیں،تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’((اللہم بارک لہم فیما رزقتہم،واغفر لہم وارحمہم)) ’’اے اللہ! جو تو نے انہیں عنایت فرمایا ہے اس میں انہیں برکت دے،ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحمت نازل کر۔‘‘