Sunan Abi Dawood Hadith 3730 (سنن أبي داود)
[3730] إسنادہ ضعیف
ترمذی (3455)
علي بن زید بن جدعان: ضعیف وعمر بن حرملۃ:مجہول (تقریب: 4875)
وللحدیث شاہد ضعیف فی الصحیحۃ للألباني (2320) !
وانظر ضعیف سنن ابن ماجہ: 3322
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَمَعَہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَجَاءُوا بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ عَلَی ثُمَامَتَيْنِ فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ خَالِدٌ إِخَالُكَ تَقْذُرُہُ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ أَجَلْ ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ اللہُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيہِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْہُ وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلْ اللہُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيہِ وَزِدْنَا مِنْہُ فَإِنَّہُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مِنْ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ قَالَ أَبُو دَاوُد ہَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں (اپنی خالہ) ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ کے ساتھ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔گھر والوں نے دو سانڈھے بھنے ہوئے پیش کیے جو دو لکڑیوں پر رکھے ہوئے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے (انہیں دیکھ کر) تھوک دیا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال ہے آپ اسے ناپسند کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جو آپ ﷺ نے نوش فرما لیا۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو یوں دعا کیا کرے ((اللہم بارک لنا فیہ وأطعمنا خیرا منہ)) ’’اے اللہ! ہمیں اس میں برکت دے اور اس سے عمدہ عطا فرما۔‘‘ اور جب اسے دودھ پلایا جائے تو یوں کہے ((اللہم بارک لنا فیہ وزدنا منہ)) ’’اے اللہ! ہمیں اس میں برکت دے اور مزید عنایت فرما۔‘‘ دودھ کے سوا اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ جناب مسدد کے ہیں۔